22 اگست 2026 - 16:17
نائب وزیر اعظم لبنان: اسرائیل مذاکرات میں سنجیدہ نہیں،

لبنان کے نائب وزیر اعظم طارق متری نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بیروت کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے کسی قسم کی حسنِ نیت کا مظاہرہ نہیں کر رہا بلکہ جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی اور اسے مضبوط بنانے کی بین الاقوامی کوششوں کی بھی مخالفت کر رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، طارق متری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے ان علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی مخالفت کر رہا ہے جہاں اس حوالے سے اتفاق رائے پایا گیا ہے، جبکہ متعدد ممالک نے ان علاقوں میں لبنانی فوج کی مدد کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ان کئی ممالک کی کوششوں کی بھی مخالفت کرتا ہے جو جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی حمایت اور اسے مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

لبنان کے نائب وزیر اعظم نے لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج ’’یونیفل‘‘ کے حوالے سے اسرائیل کے سخت مؤقف پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق، جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی موجودگی اور اس کی استعداد بڑھانے کی مخالفت کے ساتھ یونیفل پر اعتراضات خطے میں طے شدہ سکیورٹی انتظامات پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹوں کے تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔

طارق متری نے کہا کہ لبنانی حکومت ریاستی خودمختاری اور حکومتی اختیار کو مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے اور اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گی، تاہم حکومت طاقت کے ذریعے فیصلوں پر عمل درآمد کرکے ملک کے قومی اتحاد کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی۔

انہوں نے اس مسئلے کو سیاسی ذرائع سے حل کرنے اور داخلی اتحاد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

لبنان کے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں جنگوں کے خاتمے کا باعث بننے والا کوئی بھی جامع معاہدہ اور حل لبنان کے مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے جنوبی لبنان کے عوام کے حقوق پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور سکیورٹی معاملات کے حل کے دوران اس علاقے کے شہریوں کی ضروریات اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha